مجھے پہلی نظر میں پیار ہوا تھا - قسط 1
اس نے مجھے پہلی بار یونیورسٹی کی لائبریری میں دیکھا تھا۔
میں کتابوں کی الماری کے پاس کھڑی کوئی کتاب ڈھونڈ رہی تھی، جب مجھے احساس ہوا کوئی مسلسل مجھے دیکھ رہا ہے۔
میں نے پلٹ کر دیکھا۔
وہ سامنے ٹیبل پر بیٹھا تھا، ہاتھ میں کتاب تھی لیکن نظریں کتاب پر نہیں، مجھ پر تھیں۔
ہماری نظریں ملیں اور میں نے فوراً نظریں جھکا لیں۔ میرے دل کی دھڑکن اتنی تیز ہوگئی تھی کہ مجھے لگا وہ بھی سن لے گا۔
"آپ کو کون سی کتاب چاہیے؟" وہ اٹھ کر میرے پاس آ گیا۔
اس کی آواز بہت نرم تھی۔
"وہ... محبت پر کوئی ناول" میں نے بمشکل کہا۔
وہ مسکرایا "محبت تو دیکھنے سے ہوتی ہے، پڑھنے سے نہیں"
اس کے اس جملے پر میرے گال لال ہوگئے۔
وہ میرے ہاتھ سے کتاب لے کر الماری پر رکھنے لگا تو غلطی سے اس کا ہاتھ میرے ہاتھ کو چھو گیا۔ ایک لمحے کے لیے جیسے سب کچھ رک گیا۔
"میرا نام عمر ہے" اس نے کہا "اور آپ کا؟"
"روحی" میں نے آہستہ سے کہا۔
"روحی... بہت پیارا نام ہے، بالکل آپ کی طرح"
میں وہاں سے جانے لگی تو اس نے آواز دی "کل بھی آئیں گی؟"
میں نے پلٹ کر نہیں دیکھا، بس مسکرا دی اور چلی گئی۔
لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کہ باہر میرا منگیتر جلال خان میرا انتظار کر رہا ہے، جس سے میرے ابو نے میری مرضی کے بغیر میرا رشتہ طے کر دیا تھا۔
جب میں باہر نکلی تو جلال خان نے عمر کو میرے ساتھ چلتے ہوۓ دیکھ لیا تھا اور اس کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا تھا۔
*کہانی جاری ہے...*
*👆 مکمل قسط 2 پڑھنے کے لیے اوپر والے بٹن پر کلک کریں 👆*
